کلیم طور سینا

قسم کلام: اسم علم

معنی

١ - [ کنایۃ ]  حضرت موسٰی علیہ السلام  ایک جلوہ تھا کلیمِ طور سینا کے لیے تو تجلّی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے      ( ١٩٠١ء، بانگِ درا، ٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق 'کلیم' کو کسرۂ اضافت کے ذریعے عربی ہی سے ماخوذ اسم 'طُور' کے ساتھ اور 'طُور' کو کسرہ اضافت کے ذریعے اسی زبان سے ماخوذ اسم 'سِینا' کے ساتھ ملانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠١ء کو "بانگِ درا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر